ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار کے بعد ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کا تعمیری منصوبہ تنازعہ کا شکار ۔ حکومت کی عجلت سے پیدا ہوئے مسائل

کاروار کے بعد ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کا تعمیری منصوبہ تنازعہ کا شکار ۔ حکومت کی عجلت سے پیدا ہوئے مسائل

Tue, 29 Jun 2021 13:00:24    S.O. News Service

بھٹکل29؍جون (ایس او نیوز) پچھلے تین چار دنوں سے پڑوسی تعلقہ  ہوناور کے ٹونکا میں نجی بندرگاہ کی تعمیر کا مسئلہ پھر سے اخبارات کی سرخی بنا ہوا ہے جہاں ٹھیکیدار کی طرف سے مجوزہ بندرگاہ سے متعلق سڑک کی تعمیر کے خلاف مقامی افراد اور ماہی گیر سخت احتجاج کررہے ہیں تو وہیں سرکاری طور پر اس کام کو روکنے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
    
ہوناور میں حکومت کی طرف سے نجی کمپنی کو تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے اجازت دی گئی ہے اور 600 کروڑ روپے تخمینہ والے اس منصوبے پر عمل در آمد شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ سال بندرگاہ کا ابتدائی کام شروع ہوتے ہی وہاں پر مقامی لوگوں نے اور بالخصوص ماہی گیروں نے یہ کہتے ہوئے اس منصوبے کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا کہ حکومت کا یہ پروجیکٹ نہ صرف ان کی معاشی زندگی تباہ کرے گا بلکہ ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ سخت احتجاجی مظاہروں کے بعد جب ہائی کورٹ سے مظاہرین کو اسٹے  مل گیا تو تعمیری سرگرمیاں روک دی گئی تھیں۔ 
    
پھر اچانک دو چار روز قبل بندرگاہ کو جوڑنے والی سڑک کی تعمیر کا کام ٹھیکیدار کی طرف سے پورے بندوبست کے ساتھ شروع کیا گیا تو مقامی عوام پھر احتجاج  پر اتر آئے اور کہا کہ سڑک کی تعمیر کے نام پر ان کے گھروں اور ماہی گیر کشتیاں رکھنے کے شیڈس کو اجاڑنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ تنازعہ اس وقت سنگین رُخ  اختیار کرگیا جب زبردستی سڑک تعمیر کرنے کے خلاف کچھ ماہی گیر نوجوانوں نے سمندر میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔
    
یاد رہے کہ دو سال قبل کاروار میں بندرگاہ کی توسیع کرتے ہوئے ٹیگور بیچ پر کام شروع کیا گیا تھا تو وہاں پر بھی مقامی  افراد اور ماہی  گیروں نے زبردست احتجاج شروع کردیا تھا۔ پھر ہائی کورٹ سے اسٹے ملنے کے بعد نہ صرف کام روکنا پڑا تھا بلکہ عدالت کے حکم کے مطابق ٹیگور بیچ پر رکاوٹی دیوار اور سڑک کے حوالے سے جتنا کام کیا گیا تھا اور اس کے لئے مٹی اور پتھروں کے ڈھیر جو ڈالے گئے تھے ان سب کو وہاں سے ہٹانا پڑا تھا۔ جس کی وجہ سے حکومت اور ٹھیکیدار کا بھاری خسارا ہوا تھا۔
    
جانکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ترقی کے نام پر جو منصوبے بنارہی ہے اس پر عمل درآمد کے لئے مقامی عوام کو اعتماد میں نہیں لیتی۔ پہلے ان سے بات چیت کرکے مسائل سمجھنے اور اس کا ازالہ کرنے کی فکر نہیں کرتی۔ اقتدار کے دم پر کسی کی پروا کیے بغیر ہر کام کرنا چاہتی ہے اور کبھی کبھی اسے منھ کی کھانی پڑتی ہے، جیسا کہ کاروار میں ہوا اوراب  ہوناور کے  ٹونکا میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ ضلع شمالی کینرا کے عوام پہلے سے کئی ترقیاتی منصوبوں کے لئے اپنی زمین جائیداد گنوا کر بے آسرا ہوچکے ہیں۔ اور ترقی کے نام پر بار بار اس طرح برباد ہونے کے لئے اب تیار نہیں ہیں۔ اگر حکومت عجلت پسندی سے کام نہ لیتی اور مقامی عوام کے ساتھ پہلے بات چیت کرتی تو یہ مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ 


Share: